Sunday, 25 December 2011

25 December Quaid e Azam day Great Leader


ایک بار قائد اعظم انگلش میں تقریر کر رھے تھے ، ایک دیہاتی بہت انہماک سے سن رھا تھا ، پاس بیٹھے ایک صاحب نے بڑی دلچسپی سے اس دیہاتی سے پوچھا ٰ جناب قائد اعظم تو انگلش میں تقریر کر رھے ھیں ،کیا آپ کو سمجھ آ رھی ھے ؟ ٰ
دیہاتی نے برجستہ جواب دیا
ٰ مجھے یہ تو نہیں پتہ کے قائد اعظم کیا کہہ رھے ھیں ، مگر اتنا ضرور پتہ ھے جو بھی کہہ رھے ھیں سچ کہہ رھے ھیں ٰ ۔

اللہ قائد اعظم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔۔۔ آمین
Quaid and side to side to heaven ... Ameen

Sunday, 18 December 2011

Rang Laye Ga Shaheedon Ka Lahoo



Azeem Maan Tere Betay Ki Lash Aaye Hai
Khuda Gawah Hai, Shahdat Ki Maut Paye Hai
Azeem Maa Tera Noor E Nazar Shaheed Hua
Khuda Ki Raah Main Tera Pisaar Shaheed Hua
Khuda Ka Shukar Hai Medaan Say Munh Nahin Mora…
Dahan Pay, Seenay Pay, Baazu Pay Zakhm Khaye Hain
Ke Shair Loat Raha Hai Kachar Ki Janib
Udhu Ka Khoon Piye Hadiyan Chabaye Hue
Tera Shaheed Lahu May Naha K Aaya Hai…!
Qadam Qadam Pe Gulistan Khila Ke Aya Hai….
Hazar Andhian Ayen Who Bujh Nahin Sakti
Lahoo Se Apne Jo Shamaen Jala Ke Aya Hai
Likha Tha Khalid O Tariq Ne Apne Khoon Se Jise
Usi Kitab Ke Safhay Barha Ke Aya Hai..!
Jo Dekhta Hai, Adab Se, Woh Sar Jhukata Hai
Tere Shaheed Ka Shahi Jaloos Aata Hai

Thursday, 8 December 2011

Why break up Pakistan in urdu




پاکستان کی تاریخ یوں تو ہمہ وقت کسی نہ کسی “نازک موڑ” پر کھڑی رہتی ہے، جس کا آمروں نے خوب فائدہ اٹھایا اور وہ اپنی حکومتوں کو اس جملے کی گردان کے ساتھ طول دیتے رہے کہ “پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے” لیکن حقیقتاً قومی تاریخ میں اگر کوئی نازک موڑ تھا تو وہ 1971ء کا سال تھا جس سال پاکستانی فوج و سیاست دانوں کے عاقبت نااندیشانہ فیصلوں نے قائد کے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔
جس کسی نے بھی حمودالرحمٰن کمشن کی رپورٹ پڑھی ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار خالصتاً فوجی قیادت کو ٹھہرایا گیا تھا۔
قائد کے پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات زیر غور آتی ہیں اور بالآخر “رات گئی بات گئی” کی طرح ختم ہو جاتی ہیں لیکن ہم نے کبھی ان وجوہات سے سبق حاصل کرنے اور موجودہ صورتحال میں انہی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بہت ساری باتیں ایسی بھی ہیں جنہیں بہت کم زیر غور لایا جاتا ہے۔ اب آزادئ اظہار رائے کا دور ہے، بہت سارے پہلوؤں پر کھلے عام بحث کی جا رہی ہے ورنہ کچھ عرصہ قبل تک عام آدمی کے ذہن میں تصور ہی یہی تھا کہ بنگالیوں نے پاکستان سے غداری کی جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا۔


اس وطن کے قیام میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھر 1971ء میں اس کو بچانے کے لیے بھی ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں دیں لیکن دلوں میں موجود نفرتوں کا لاوا سب کچھ جلا کر راکھ کر گیا۔ حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی، فوج کی ہر معاملے کو بزور قوت حل کرنے کی پالیسی، جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے کی حکمت عملی نے سب کچھ خاک میں ملا دیا.71ء کی جنگ کے دوران پاکستان کا سرکاری میڈیا “سب اچھاہے” کہ راگ الاپ رہا تھا اور ٹائیگر نیازی کے یہ بیان بھی پیش ہوتے تھے کہ “ڈھاکہ فتح کرنے کے لیے دشمن کو میری لاش پر سے گزرنا ہوگا”۔ دوسری جانب مغربی پاکستان کی عوام کو حقیقت سے بالکل بے خبر رکھا گیا. میں کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر، جو ڈھاکہ میں جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں، خرم مراد صاحب کی خود نوشت “لمحات” پڑھ رہا تھا۔ مرحوم کیونکہ خود ڈھاکہ میں رہ چکے تھے اور اُن ایام کو اپنی نظروں سے دیکھ چکے تھے جس میں یہ عظیم سانحہ رونما ہوا اس لیے ان کی کتاب اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
ان کی کتاب “لمحات” اور دیگر چند کتب پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سب سے اہم سبب یہاں کی عسکری و سیاسی قیادت کا غیر جمہوریت پسندانہ رویہ تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی دیگر کئی وجوہات ہیں، جن کا ذکر یہاں کروں گا۔
مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی چند انتہائی بنیادی وجوہات تھیں۔ ایک آبادی کے لحاظ سے وہ زیادہ بڑا علاقہ تھا جس کی وجہ سے کہ مغربی پاکستان کی نوکر شاہی اور عسکری قیادت کو یہ “خطرہ” لاحق ہو گیا کہ اگر سیاسی نظام کو جمہوری انداز میں چلنے دیا گیا تو بنگالی برسر اقتدار رہیں گے۔ اسی وجہ سے بنگال سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو غلام محمد نے برطرف کر کے پاکستان کے سیاسی نظام میں ایسی بدعت کا آغاز کیا جس کا خمیازہ بعد میں آنے والی کئی جمہوری حکومتیں بھگتتی رہیں۔ مغربی پاکستان میں دارالحکومت کراچی میں بیٹھ کر ایسی نوکر شاہی اور عسکری قیادت، جس کا 90 فیصد مغربی پاکستان کے باشندوں پر مشتمل ہو، حکومت چلانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ فوج اور نوکر شاہی تو کسی کی دال نہ گلنے دیتی، یہ تو خواجہ ناظم الدین جیسے شریف النفس انسان تھے، جن کو ہٹانے سے جمہوری حکومتوں کے قتل کا سلسلہ چل نکلا۔ رہی سہی کسر محمد علی بوگرہ کی حکومت کے خاتمے نے پوری کر دی جن کے دور میں دستور ساز اسمبلی ایک ایسی ترمیم منظور کرنے جا رہی تھی جس میں گورنر کے اختیارات کو کم کیا جانا تھا لیکن غلام محمد نے پہلے اسے برطرف کر دیا، یوں مطلق العنان آمریت کی مضبوط بنیاد ڈال گئے۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان کے یہ دونوں بازو ہزار میل کے فاصلے پر صرف اور صرف اسلام کے رشتے سے جڑے تھے۔ جب قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں نے اسلام میں دلچسپی ہی نہ دکھائی تو پھر یہ رشتہ بے معنی تھا۔ وہاں سوشلسٹ اور سیکولر نظریات پھلتے پھولتے رہے اور انہی سے بنگلہ قوم پرستی نے بھی جنم لیا تو یہ جلتی پر تیل والا کام ہو گیا۔
تیسری اہم وجہ ہماری قیادت کا بے وجہ جذباتی پن تھا جس میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ نہ دینا تھا۔ اس بے جا اصرار کے نتیجے میں بنگالی قوم پرستوں کو عوام کے جذبات سے کھیلنے کا موقع ملا۔ “سرکاری زبان صرف اردو ہوگی” کا نعرہ تو لگا لیا گیا لیکن یہ محض جذباتی نعرہ تھا اور نتیجہ وہی ہوا کہ اردو آج تک سرکاری زبان نہ بن سکی اور بنگالی بولنے والے بھی ہم سے الگ ہو گئے۔ اس خواہ مخواہ کی کشمکش نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے باشندوں کے درمیان نفرت کے بیج بو دیے اور زبردست انتشار پیدا ہوا جو بالآخر سقوط مشرقی پاکستان پر منتج ہوا۔
پھر ماحول ایسا تخلیق کر دیا گیا کہ جس میں مغربی پاکستان کے باشندوں کے بنگال کے باشندوں کے مقابلے میں احساس تفاخر و برتری تھا اور وہ انہیں کم تر سمجھتے تھے۔ بنگال کے باشندوں کی ذہانت، حب الوطنی، قوت اور صلاحیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور انہیں دیگر قوموں کے مقابلے میں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دیے جاتے۔


چوتھی اہم وجہ وسائل کی تقسیم میں زبردست عدم توازن تھا اور یہ تک کہا گیا کہ “مغربی پاکستان کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے” لیکن اس کے باجود 25 سالوں میں مشرقی پاکستان میں جس بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی۔ اس لیے یہ کہنا تو بالکل درست نہیں ہوگا کہ اقتصادی لحاظ سے بنگال کا علاقہ تقسیم ہند کے بعد مزید کمزور ہو گیا البتہ صوبوں کے درمیان وسائل کی یکساں تقسیم کا مسئلہ اُس وقت بھی آج ہی کی طرح گمبھیر تھا۔
پانچویں ایک اہم وجہ، جس پر کم دھیان دیا جاتا ہے، دارالحکومت کا کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا جانا تھی۔ کراچی پاکستان کی تمام اقوام کا شہر تھا جو حقیقتاً پاکستانیت کا مظہر بھی تھا۔ اس کے مقابلے میں جس نئے دارالحکومت کا انتخاب کیا گیا وہ فوج کے صدر دفاتر (جی ایچ کیو) کے دامن میں واقع تھا اور یوں سیاست دانوں پر واضح کر دیا گیا کہ اب حکومت فوج کی گود میں بیٹھ کر چلے گی۔ دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی نے بھی بنگالیوں کے ذہنوں پر بہت کچھ واضح کر دیا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے جمہوری حق کو ختم کرنے کے لیے ایک اور چال چلی جا چکی ہے۔
چھٹی سب سے بڑی اور اہم وجہ 1970ء کے انتخابات کے بعد فاتح عوامی لیگ کی اقتدار میں آنے کی تمام راہیں مسدود کرنا تھی جس کی مغربی پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت نے مل کر بھرپور کوشش کی۔ گو کہ 1970ء کے انتخابات میں بھی شیخ مجیب الرحمٰن نے علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا تھا کہ بلکہ انہوں نے “چھ نکات بھی نافذ ہوں گے اور پاکستان بھی ایک رہے گا” کا بیان تک دیا۔ چاہے ان کے ارادے کچھ بھی ہوں، لیکن ان کے اس بیان سے اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام میں اس وقت بھی پاکستان مخالف جذبات اتنے زیادہ نہیں تھے، وہ مغربی پاکستان کی فوج اور افسر شاہی کے ضرورخلاف تھے اور اپنا آئینی و قانونی حق ضرور مانگتے تھے لیکن وہ وفاق پاکستان کے ہر گز خلاف نہ تھے یہی وجہ ہے تھی کہ مجیب الرحمٰن کو اس طرح کے بیانات بھی جاری کرنا پڑے ۔
25 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے قبل عوامی لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سے علیحدگی کے حوالے سے بحث کے بعد بھاری اکثریت نے پاکستان کے ساتھ رہنے اور اسے برقرار کھنے پر رائے دی۔ اس میں صرف عوامی لیگ کی حامی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ واحد تنظیم تھی جس کی مرکزی کمیٹی نے پاکستان کے حق میں رائے نہ دی۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ آپریشن کے آغاز سے قبل ہی علیحدگی چاہتے تھے غلط تھا۔ اوپر سے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا ہٹ دھرمی والا رویہ بھی تابوت میں آخری کیل بن گیا۔
گو کہ سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن میں خرم مراد مرحوم کی خود نوشت سے ایک اہم اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا ، جس میں انہوں نے سقوط مشرقی پاکستان سے قبل کے چند اہم واقعات کو پیش کیا ہے:
یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ “کیا مجیب الرحمن پاکستان کے لیے سنجیدہ تھے، اور کیا ان کو اقتدار دے دیا جاتا تو پاکستان ایک رہتا؟” ہمارا اصولی موقف یہ تھا کہ “چونکہ انتخابات ہو گئے ہیں، اسمبلی میں عوامی لیگ کی اکثریت ہے، اس لیے عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کر دیا جائے۔” لیکن اس صاف اصولی موقف کے باوجود میں بھٹو صاحب کی اس بات کو بالکل بے وزن نہیں سمجھتا، جس کے مطابق اس بات کا بڑا خطرہ تھا کہ عوامی لیگ اسمبلی کے اجلاس میں آنے کے بعد پاکستان توڑنے کی قرارداد پاس کر دیتی۔ پھر اس کے بعد کسی کے بھی بس میں نہیں تھا کہ پبلک کے نمایندوں کے فیصلہ کو قانونی طور پر روک سکے۔ جبکہ یہ اسمبلی دستور ساز تھی۔
پھر یہ خوف بھی پایا جاتا تھا کہ پاکستان کو اپنے وسائل و ذرائع میں سے علاحدہ ہونے والے حصے کو اثاثہ دینا پڑتا۔ مثال کے طور پر خزانہ، اسلحہ، ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور اثاثہ جات میں آدھے سے زیادہ حصہ ادا کرنا پڑتا کیونکہ اسمبلی کی قرارداد سے یہ ایک قانونی اور دستوری کارروائی ہوتی۔ اس کے برعکس بغاوت کے نتیجے میں علاحدگی میں یہ ذمہ داری نہ ہوتی۔ ممکن ہے کہ مغربی پاکستان کے فیصلہ ساز لوکوں کو سامنے یہ بات بھی ہو، اس لیے وہ “بے دام علاحدگی” کو اپنے حصے کےلیے “نفع بخش سودا” تصور کرتے ہوں گے۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 25 مارچ کے آرمی ایکشن کے بعد کراچی جا کر بیان دیا کہ “خدا کا شکر ہے، پاکستان بچا لیا گیا”۔ آرمی ایکشن کے غلط فیصلے کے باوجود، میں بھٹو صاحب جیسے ذہین آدمی سے یہ توقع نہیں رکھتا، کہ انہوں نے یہ بیان محض آرمی ایکشن کے حوالے سے دیا ہوگا۔ یقیناً ان کے سامنے کچھ اور باتیں بھی ہوں گی۔ اگرچہ ان باتوں میں تلخی پیدا کرنے اور ہٹ دھرمی کی آگ بھڑکانے کا ایک بڑا فعال سبب وہ خود بھی تھے۔
25 مارچ 1971ء تک مجیب الرحمٰن نے یہ نہیں کہا کہ “آزاد بنگلہ دیش بننا چاہیے”۔ حالانکہ اس دوران مغربی پاکستانی فوجی حکمرانوں اور مغربی پاکستان جو بہرحال ایک سیاسی اکائی نہیں تھا، بلکہ چار صوبے تھے، اس میں سے دو بڑے صوبوں کے سیاسی قائد مسٹر بھٹو نے مشرقی پاکستانی قیادت کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا تھا۔
سقوط مشرقی پاکستان وہ المیہ ہے جس کی سراسر ذمہ داری ہماری فوج پر عائد ہوتی ہے۔ صدیق سالک نے اپنی کتاب “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” میں لکھا ہے کہ جنرل یحیی کے ایک جرنیل نے یہ الفاظ ادا کیے تھے “آپ لوگ فکر نہ کریں، ان کالے حرامیوں کو ہم خود پر حکومت نہ کرنے دیں گے”۔ لوگ بھٹو اور مجیب کو اس تقسیم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ چھوٹے کردار تھے اصل اور گھناؤنا کردار فوج نے ادا کیا۔ اور 70ء کے انتخابات کے بعد جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کا خمیازہ ہمیں اس صورت میں ہی بھگتنا تھا۔ بھارت جو پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھا اس نے صورتحال سے پورا فائدہ اٹھایا۔ بس اتنا کہنا چاہوں گا
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ امریکنوں کی طرف سے سینیٹری کا سامان بطور تحفہ آیا، کیبنٹ میں بیٹھے کسی بنگالی نے اس میں سے حصہ مانگا تو مغربی پاکستان کے وزیروں نے قہقہہ مارتے ہوئے کہا

”تم لوگوں نے سینیٹری کا سامان کیا کرنا ہے؟ تمہیں تو رفع حاجت کے لئے کیلوں کا جھنڈ ہی کافی ہے“ ۔
یہاں یاد پڑتا ہے کہ شہاب صاحب نے ”جھنڈ“ کی بجائے ”کیلوں کی گاچھ“ کے لفظ استعمال کئے تھے جس کی حب الوطنی کو مزید اطمینان چاہئے وہ قدرت اللہ شہاب کا ”شہاب نامہ“ پڑھ لے تو خاصا افاقہ ہو جائے گا۔


.
سالہا سال بنگال کا استحصال ہوتا رہا، وہ ذلیل و خوار ہوتا رہا لیکن مغربی پاکستان میں کس کو فکر تھی؟ کتنے ٹائر جلے اور کتنی ہڑتالیں ہوئیں؟ آج بھی اسلام آباد اور لاہور میں خود کش حملے ہوئے تو لوگوںکو یاد آیا کہ وزیرستان میں 2002 سے آپریشن ہو رہا ہے، گھر برباد اور بازار اجڑ گئے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں۔
بس چھوڑیں صاحب۔۔۔ دل نہ جلائیں اپنا بھی اور ہمارا بھی۔۔۔

Wednesday, 30 November 2011

BEST OF ALLAMA IQBAL


BEST OF ALLAMA IQBAL


When I Go To The West I See Islam Without Muslims.
But
When I Come Back To The East I See Muslims Without Islam






Thursday, 3 November 2011

Beautiful Pakistan, Ali Moen Artical



Tuesday, 1 November 2011

Pak Army, Pakistan Army Story







Thursday, 22 September 2011

A Proud Muslim And Pakistani


A Brave Son Of Pakistan


Pakistan's character speaks louder than words all over the world.This is what the Muslim is,the west and their puppets are showing their own character on media and labeling it on Muslims,they are trying to malign Islam/Pakistan. All Muslims as a whole and Pakistanis in specific use your best energies to reinforce Muslim Ummah/Pakistan. This blog is meant for you to facilitate you to join in the MISSION by sharing the reality of Muslims/Pakistan with rest of the world and save your time too.Pakistan will remain shining as a SUN on the horizon and will work as a base camp for Muslim Ummah. Any one who will try to deprive Pakistan from this honorable status will soon become go into the dust bin of History and will be remembered as TRAITOR. Traitors to learn lesson from their elders,starting from Qabeel till date,nothing has changed,all characters remain same,its you and me to decide which role we like to play during our span of time.Ho Ga To Wohi Jo Allah Ki Chahet Hai.Let's fall back to our origin "the footsteps of Prophet(S)".Pakistan Zindabad.

A Proud Muslim And Pakistani

This is the potential with which the world is benefiting.Presently Pakistani citizens are giving worth while contribution all over the world,for which we all are proud may they live long. The concern in this regard has to dimensions,one at individual level and another at government level.The Pakistani citizens have always proved to be great Nationalists,they offer their skills free of cost or at times on a much lesser charges as compare to the multinational company but unfortunately on government side things are not very healthy. If the sons of ruling elite in spite being incompetent enjoy moral and material support to attain highest possible levels,why the skills/talent of these sons of soil is being wasted. As private sector is playing important role in education and other sectors,similarly rich sons of soil can take the lead in protecting the great asset of Pakistan. As we have failed to guard the brain drain western powers were there to avail the opportunity. As a result we lost moral edge,lost a great soldier and lost a complete skilled generation. Na Idher Udher Ki Too Baat Kr Yai Beta K Qaafla Kiyun Luta:
Mujhy Rahzeno Sy Gheraz Nahi Tairi Rahberi Ka Sewaal Hai

• Afraad K Haathon Main Hai Aqwaam Ki Teqdeer

· Everyone has right to live with dignity and honor, if anyone challenges this right is criminal. To deal with criminals has variety of formulas; the more sensible is to kill a snake without causing damage to ourselves. The most peaceful formula is to get united, identify the solution, prepare well and execute sensibly. For instance West is all out to insult and humiliate signs of Islam, challenging the sovereignty of Muslim countries, so now how to defend? Offensive is the best defense. Why to get kicked, arrested, humiliated by puppets in government, why cause damage to own assets, let’s go for effective/aggressive counter offensive. All worried Pakistani Youth get united through facebook, settle on one point agenda that “What all west wants to enforce we all say no to it in our area of influence like these Buffalos”. Hijab, music concerts, coeducation, family planning, beard, aimless TV Transmissions, undignified wedding behaviors, Islamic dress code, all Islamic Obligation. Just Transform into the lifestyle of Prophet(S).The revenge behavior should be seen massively on facebook, twitter, blogs, e.mails, education institutions, offices, marriages. I am sure if Muslim youth is sincere to Allah,they can surprise the world. Look what Sister Yvonnen Redly has done, trillions of western investment to destroy the Islam and Muslim image was washed away by her efforts. www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=xFZrSPUoH3I.

Iz Ja Al Haqoo Wa Zehaakel Baatil

Ki Muhammad Sy Wefa Too Ny To Hum Tairy Hain: 
Yai Jehan Cheeze Hai Kia Loh-o-Qelum Tairy Hain
      
Quwet-e-Ishq  Sy  Hr  Pust  Ko  Bala  Kr  Dy:
Dehr Main Ism-e-Muhammad Say Ujala Kr Dy

Mera  Tareeq   Ameeri   Nahi    Faqeeri        Hai:
Khudi Na Baich Ghareebi Main Naam Paida Ker

The Man Is Known By The Company He Keeps

Leaders and commanders in countries, institutions and homes are honor /duty bound ethically socially, religiously and morally to put in their best to get their under command the best. The formula has been blessed to us by Allah who provided us the footsteps of Prophet(S). We need to have strong friendship with Prophet(S) and respect all the signs brought by him(S) and the most important of all is ,not to have friendship with his enemies, their culture and way of life. We must not be HIPOCRATES, Allah says 63.1. Tumharay pass jab munafiq aatay hain to kehtay hain kay hum iss baat kay gawah hain kay be-shak aap Allah kay rasool hain aur Allah janta hai yaqeenan aap uss kay rasool hain aur Allah gawahi deta hai kay yeh munafiq qata’an.
We need to remain United and do not allow enemy to create the DIVIDE of “enlightened Moderates and Extremist”. 3.103. Allah Taalaa ki rassi ko mill ker sab mazbooti say thaam lo aur phoot na dalo aur Allah Taalaa ki uss waqt ki nemta ko yaad kero jab tum aik doosray kay dushman thay to uss ney tumharay dilon mein ulfat daal di. So let's make sure to remain in good company of slaves of Prophet(S).

Can We Be Graded As Ashraf-Ul-Makhlookaat


The animals are our best teachers, their life is full of lessons that teach us to remain vigilant in our behaviors and prove that we are not worse than ANIMALS. Protecting the life, assets, dignity and honor of our sons, daughters and country is the foremost obligation, which needs to be fulfilled at all cost. Living and dying has no importance, Faith necessitates action. The most shameless compromise on dignity and honor begins once Footsteps of Prophet(S) become least important in our life. Allah says that do you have doubt in my friendship? Then why you look for friendship with my enemies? Allah will soon ask about your deeds and no one can deceive him, everyone will have to face what all he/she had been doing. Hell fire is waiting for those who show arrogant behaviors towards Allah. This buffalo is a symbol of Pakistan Leadership; the cape is Pakistan and Lions as shameless as America trying to prove their strength to a lone Buffalo. So it’s never too late, Allah love those who reconsider and ask for apology,

For Every Feron Musa(AS) Will Always Be There


Allah says about human beings as “Zaloomen Jahoola”. After defeated / humiliated twice in Afghanistan, Yahood-o-Nasara did not learn lesson. After 9/11 they collected all kuffaar, Mushriqeen and Munafiqeen in Afghanistan with unprecedented high tech war machine. They started bombing innocent civilians instead fighting mujahideen, as a result Afghan Taliban responded by classical strategic withdrawal world has ever witnessed with their all war machine intact and world not in knowledge. All west media started celebrating victory, US give access to northern Alliance again in Kabul by once again betraying a trust worthy Pakistan and a puppet Karzai flown from US to play subservient role. Bush announces victory and since then today in September 2001 all US commanders and leaders are begging to negotiate with “TERRORIST” Taliban. The munafiqeen are hiding their faces and giving shameless excuses as they have left no stone unturned to humiliate religious community to make BUSH happy. As usual Munafiqeen are rewarded with humiliation and disgrace by their Masters, Their masters repeated the quote of their elders and said “ Go to hell, you are not loyal with your mother how can you be loyal with us”. 005.010 And they who disbelieve and deny Our revelations, such are rightful owners of hell(Almaida-10)

Friday, 9 September 2011

PAKISTAN ka Matlab Kiya ... ??


پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash2/39849_420866180333_672380333_5423131_2904486_n.jpg

یہ میرا پاکستان ہے' اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا' اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔ اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق' اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں' اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے' یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے' یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے' میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیںجو اس کے آبی قطروں میں ہے۔ میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔ اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے' میری جاں بھی ہے' اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں' اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/295061_10150260024290334_672380333_8207595_970699_n.jpg

یہ نظریئے' یہ احساس' یہ سوچیں' یہ افکاریہ' یہ درد' یہ آرزوئیں' یہ ولولے اور یہ تمنائیں کسی ایک شخص کے نہیں' ہر پاکستانی کی ہیں اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب اپنے ملک کی محبت اور عقیدت میں گرفتار ہیں۔ لیکن یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرکیں' ہمارے وطن کی شاہراہیں' ہمارے دیس کی وادیاں' ہمارے کشور ناز کے صحرا' ہمارے پنجاب کے میدان' ہمارے سرحد کے پربت' ہمارے بلوچستان کے ٹیلے' ہمارے سندھ کے ریگزار قتل گاہیں کیوں بن گئیں۔ یہاں نفرتوںکے کانٹے کس نے بوئے؟ یہاں بارود کے دھوؤں میں ہم وطنوں کا خون کس نے بکھیرا۔ الفت و محبت کے نغموں کو بے سازوبے آوازکس نے کیا؟ ناقص اور غلط افکار کے آوارہ اور بے نسل ہاتھیوں کو دشت وطن میں دوڑنے کا موقع کس نے فراہم کیاکہ گلی گلی حسد وبغض کی خاک اڑنے لگی۔ تہذیب و تمدن کی بساط پر حیا سوزی کی آگ کون روشن کرگیا کہ ملت عریانیت اور فحاشی کی ناز بے کراں میں جلنے لگی۔ جدھر دیکھتے ہیں جسے دیکھتے ہیں' حالات کی ظلمتیں جیسے مقدر کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔۔۔۔۔۔!!!

ہم خونیں بدن لئے' ہم مجروح جسم لئے' ہم گھائل دل لئے' ہم امستے افکار لئے 'ہم بے حال وجود لئے اور ہم فگار قلب و جگر لئے منزل ڈھونڈنے' سہارا تلاش کرنے' وسیلہ پکڑنے علماء کے درودولت پر حاضری دیتے ہیں۔ علماء کرام! بچالو ہمیں۔ ہم دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں مشائخ عظام کا'


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/294596_10150260024720334_672380333_8207607_7000478_n.jpg

مشائخ عظام! بچالو ہمیں۔ بچالو ہمارے ملک کو! ہماری ملت کو' ہم سنتے ہیں تمہارے پاس دین ہے۔ کہاں ہے تمہارا دین؟ بچاؤ بچاؤ کہ ہم جل رہے ہیں۔ ہم ڈوب رہے ہیں۔ ہمارا ملک بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے نفرتوں کی چڑیلیں چمٹ گئی ہیں۔ اسے عصبیتوں کے سانپ کانٹ رہے ہیں۔ اسے علاقہ پرستیوں کے بچھو ڈس رہے ہیں۔ خدارا! مدد کرو۔ تم کب تک حسین بحثوں اور دلکش مناظروں کے سوداگر بنے رہوگے؟ اپنے علم کو زحمت آفرین مت بناؤ۔ رحمت پرور بناؤ' لفظ بازی کے میدان سے نکل کر قوم کی امامت کرو' دیکھو ساری قوم تمہارے دروازے پر کھڑی ہے' لگتا ایسے ہے کہ یہ چشمہ فیض بھی کبھی جاری تھا لیکن اب خشک ہوچکا ہے۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ یہ دریائے رحمت کبھی انسانیت کو سیراب کرتا تھا۔ اب اس کے سوتے بے فیض ہوچکے ہیں۔ سمجھ یہ آتی ہے کہ یہ رسی کبھی خدا تک پہنچانے کا سلیقہ رکھتی تھی۔ لیکن اب اس کا اپنا ناتا عرش سے کٹ چکا ہے۔ رسم اذاں ہے روح بلالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ وجود نماز ہے قلب علی رضی ﷲ عنہ نہیں۔ ادائے زکواۃ ہے حکمت عثمانی رضی اﷲ عنہ نہیں۔ مناسک دین ہے فراست بوذر رضی اﷲ عنہ نہیں۔ شیریں مقالی ہے عشق حسان رضی اﷲ عنہ نہیں۔ اہتمام تدریس ہے تلقین غزالی رضی اﷲ عنہ نہیں۔۔۔۔۔۔!!!


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/39849_420866190333_672380333_5423132_929318_n.jpg

علمائے کرام! مشائخ عظام!

تمہارے وجود میں دین مبین کا آب صافی کبھی گدلا نہ ہوتا' تمہارے فیض کا دریائے نور کبھی خشک نہ ہوتا' اگر تم میں ایسے لوگ نہ پیدا ہوجاتے جو خالق پر مخلوق کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی بوالہوسیاں فیضی وابوالفضل کو بھی شرمسار کردیتی ہیں۔ ہم اہل اسلام' اہل وطن اگر خود تار تار وجود نہ رکھتے ہوتے اور ہماری اپنی شرم سوزیاں اور حیاء سازیاں اگر حد انتہا تک نہ پہنچ چکی ہوتیں تو ہم تمہیں کبھی معاف نہ کرتے لیکن تم اور ہم سب ایک بگڑی ہوئی قوم کا حصہ ہیں۔ اس لئے آؤ شاید ہمارے سیاستدان اور حکمران ہمیں سنبھالا دیں لیکن یہاں بھی دکھتا یہ ہے کہ ہمارا وزن زیادہ ہے اور ہماری سیاست کے ناخداؤں کے سفینے تنگ ظرف ہیں۔ ان کے کمزور اور ناتواں ہاتھ زندگی کی ناؤ کھینچنے میں شاید کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہیں فرصت ہی نہیں دولت سازیوں سے' انہیں موقع ہی نہیں دے رہیں' ان کی ہوس افزونیاں' انہیں سوچنے ہی نہیں دیتیں' دنیا پرستیاں' وہ شرمسار لذت کام و دھن میں' وہ سرگرداں ہیں' مستی عیش و عشرت میں' وہ مبتلا ہیں فریب حکم و حکمت میں' وہ محو ہیں قوم کی سادہ سازی اور سادہ گری میں۔ ان کے جسم پاکستانی ہیں اور روحیں پردیسی ہیں۔ ان کے بدن پاکستانی ہیں ان کے ضمیر بدیسی ہیں۔ بقول شخصے۔

اس کے بھی مقدر میں وہی در بدری ہے
 برباد میری طرح نسیم سحری ہے
میری روح کے مطاف میرے وطن
میرے دل کے مدار میرے دیس
میری آنکھ کے منظر شوق میرے وطن
میری چشم کے منظر جمالی میری دیس


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc4/40395_420866280333_672380333_5423137_1612423_n.jpg

آج تیری قسمت لکھنے والے قلم تلواریں بن گئے۔ آج تیری حفاظت کرنے والے تلواریں کھجور کی خشک شدہ ٹہنیاں ہوگئیں۔ آج تیری ترقی کے لئے سوچنے والے دماغ خشک گوشت کی سڑی ہوئی بوٹیاں بن گئے۔ آج تیری عظمت کے ترانے الاپنے والے شاعر محبوبوں کی زلف ہائے بے سود میں الجھی ہوئی جوئیں ہوگئے۔ آج تیری عظمت کے گیت گانے والوں کے گلوں میں مفاد کی ہڈیاں پھنس گئیں۔

''میرے وطن پاکستان''

تیری گودمیں پھر وہ نوجوان حسن کی بہاریں کب بکھیریں گچن کا مقدر' جن کا نعرہ' جن کا شوق اور جن کی لگن بس یہی ہوگی۔

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لاالہ اﷲ اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

میرے وطن! تیرے سرپر دست شفقت رکھنے والے بوڑھے پیر بزرگ کب نشہ مرگ سے باہر آئیں گے کہ تجھے بصیرت اور تدبر کا نور ملے گا۔

''میرے دیس'' تیری چھاتی پر کرکٹ کے بلوں اور ہاکی کی گیندوں سے کھیلنے والوں کو کب فرصت ملے گی کہ وہ کیل و کانٹوں سے لیس ہوکر تیری حفاظت کے لئے بیڑہ اٹھائیں گے۔

''میرے کشور ناز'' میری روح' میرے جگر' تیری تاریخ ماں بیٹیوں کا جنون حسن آرائی اور نشہ شرم سوزی کب دم مرگ دم لے گا کہ وہ تجھے حوصلوں اور پاکیزہ جذبوں کی آغوش میں لے کر پائندہ و زندہ رہنے کی لوری سنائیں گے۔

''میرے وطن'' تو میری زبان ہوجا۔ میرے وطن تو میری آہ بن جا۔ میرے وطن تو عظیم جذبوں میں ڈھل کر بول' آواز دے' ہنگامہ کھڑا کری۔ آج وقت ہے شور مچا اپنوں کو بلا' اپنی برادری کو اکھٹا کر اور صدا لگا۔


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash2/40395_420866275333_672380333_5423136_3500493_n.jpg

اپنی ہی قلفیاں سمجھ کر مجھے لوٹنے والو' میں نہ رہا تو تمہاری عیاشیاں بھی نہ رہیں گی۔ میں نہ رہا تو تمہاری سیاستوں کا بھی مندہ پڑ جائے گا۔ میں نہ رہا تو تمہارے فلک بوس محل بھی گل مردہ کی طرح بے رونق ہوجائیں گے۔ میں نہ رہا تو تمہارے ارمانوں اور آرزوؤں کے سہاگ اجڑ جائیں گے۔ تمہاری شاہ شیریوں کی براتیں لٹ جائیں گی۔ تمہارے سروں کے عمامے گرہ در گرہ بکھر جائیں گے اور تمہاری عزت کی عبائیں اور قبائیں تار تار ہوجائیں گی۔

میرے پھول وطن ۔۔۔۔۔۔ میرے خوشبو دیس
آ تو بھی بول آ میں بھی بولوں
تو بی دعا کر آ میں بھی پکاروں
نور شریعت دے دے مولا
شبنم عظمت دے دے مولا
در رفعت عطا کر مولا

استحکام کی شہدیں نہریں ہوں اور شہد کے دریا بہہ جائیں' زہر کے ساگر ٹوٹ پڑیں اور بغض کے بادل چھٹ جائیں۔ چپہ چپہ رحمت مولا' قدم قدم نور ورنگ' لحظہ لحظہ نظر کرم' لمحہ لمحہ نظر کرم' گام گام اجالے اگیں اور بستی بستی روشنی برسے۔

صدقہ میرے داتا رحمتہ اﷲ علیہ کا
واسطہ میرے غوث اعظم رحمتہ اﷲ علیہ کا تجھ کو
مجھے حفظ میں لے مجھے امن سے رکھ!

میری باغوں کے گلدانوں کا' میرے صحرا کے آتش دانوں کا' میرے ذروں اور ستاروں کا' میری بہاروں اور گلزاروں کا' میرے جوبن مست پہاڑوں کا' میری قاری خو آبشاروں کا' میرے سپنوں اور میرے خوابوں کا' میرے آبی موروں اور مرغابیوں کا' میرا کون ہے تیرے سوا مولا!!

ڈاکو لوٹیں عالم سوئیں حاکم سوئیں عالم لوٹیں
حاکم لوٹیں شہری سوئیں اور شہری لوٹیں سب لٹیرے
 میں بے چارہ میں بے بس میں مظلوم میں مقہور

قد افلح من ذکھا ۔۔۔ قد خاب من دسھا


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/223761_10150260027560334_672380333_8207668_5475193_n.jpg

Tuesday, 6 September 2011

MIGHTY PAKISTAN


Friends
To the comments of Turkman I have to add the following:
 
Whatever assets of Pakistan has may be correct or partially correct. Even then these are great assets. But the writer has overlooked one very important aspect. It is not the presence of assets which makes a country great. IT IS HOW WELL THE COUNTRY EXPLOITS these assets. Pakistan has miserably failed to make use of those advantages in the right direction. I shall confine myself to just a few.
 
Human Resources. More than 50% of the population is illiterate. Out of the literate more are jobless than those who get the job. Moreover in this modern world we require scientists and technical personnel in which catagory we lack human resources seriously. So we have not used this source of our strength. What we used is corrupt politicians and beaurocrats. Of course our Mullahs, following those in Afghanistan, have converted a considerable portion of the population into Pakistani Taliban. Using this asset they have killed 35,000 Pakistanis, injured over 100,000 besides the damage to property so far. How does that make us great?
 
Nuclear Power: It is indeed a great asset but it does not help to develope the country. It only ensures a deterrent and as far as I remember it has saved us 4 times from Indian attack.

Gold and Copper: This source is known for 2 decades. The way we used or exploited this source is to create more lucid conditions for bribe and corruption. Thank God the case is in Supreme Court otherwise we would have lost billions of dollars in the contract for exraction. We have, however, lost 2 decades.
 
Gawadar: The port may be bigger than Dubai but has it been used to its fullest. Compared to Dubai its performance is not even 10%. It is mired in litigation with a Singapore company to whom its management was entrusted. Again misuse of asset.
 
Scientists, Engineers: May be we have large number of this catagory but have we used them they way the Western countries do. Our Scientists and Engineers are not paid or given other incentives viz a viz their qualificatins and experience. That is why they have not been able to produce any significant results worth mentioning, barring a few e.g. a scientist in Lum University Lahor who has been placed in the list of 35 inventers in the world. But on the other hand there are reports about a research institution (I forget its name) whose 90% budget goes to pay and allowances. Will this make us great in near future.
 
Natural Gas: It may have been big enough but no more. The daily gas shedding and closure of a large number of industrial units dependent on gas speaks the truth. That is why we are entering into contract with Iran to import gas.
 
Coal: Yes we have coal. It is known for more than a decade but how have we exploited it. Recently Dr. Samar Mubarik gave statment that he could extract gas from it if he was provided funds to procure certain type of machinery. After more than a year of trying to get funds he said that he had reached a condition where he could weep over the behaviour of beaurocracy. If we do not expoit this source it will be as useful as it was to stone age man.
 
In the end I would again emphasize that unless we utilise our sources in the right direction, without corruption and delaying tactics, we will never become a great nation which we deserve. The oil of Arab or other countries was there, Eskimos of Canada had diamonds and oil too but they never even could meet their daily needs what to talk of becoming a power. Even after exraction their natural resources they have not become great powers. One also has to use the wealth obtained from these resources judiciously and in the right direction.

With Regards.
Ghulam Yusuf 

 
Comments Mr. Hanif are inserted below. 

Dear all - Pakistanis and her well wishers.
The Western insistence of portraying Pakistan as a worthless, Mickey Mouse country with no hope or potential is extremely hurtful and misplaced because it is false and misleading perception. Pakistan is in fact a genuine sleeping GIANT.  It has all the ingredients to become a great country one day!
The facts below were all taken from the internet and have not been independently verified; but even if some of the facts need to be updated, the reality of the situation is that Pakistan is undoubtedly blessed with huge natural resources and potential. 
Some facts about Pakistan:
1.       It has huge human resource and capital; approximately 65% of its population is under 25 years of age, which is mind-blowing (India and China are becoming super powers because of their human capital).
.
TURKMAN: Because India and China are not at JehaaD against USA and they do not hate USA and the West. Pakistan exports Human Resources (people) more than them.
--------
2        It has the 2nd largest salt mine in the world (Khewra).
TURKMAN: ... and the world does not need Salt because its easier to make it by Sea Water.
-----------

3.       It has the 2nd largest dam in the world.
TURKMAN: But it was built with help of Canada and USA that we hate and is full of Silt. It can not produce enough Electricity, The purpose it was built for.
----------
4.       It is a nuclear power - One of only seven countries of the world.
TURKMAN: Because our rulers prefer Bread over Bombs. We can not eat Nuclear Bombs. 
----------

5.       It has the 5th largest gold and copper deposits in the world.
TURKMAN: And is this why we are so poor and import Gold and Copper every year?
-----------
6.       It has the 6th largest standing army in the world.
TURKMAN: Not true but this Army has never won any war, can not even control a few thousand Taliban and has been living off poor Pakistanis eating up half to 3/4th of their Budget every year.
---------
7.       It has the 7th largest pool of scientists and engineers in the world.
TURKMAN: And that's why 7 out 10 Computer Viruses on Internet were created by them and this is why Pakistan is so advanced in Science. 
---------

8.       It has the largest deep sea port in the world (Gwadar), far bigger than Dubai.
TURKMAN: Built with help of China but its useless so far. 
-----------
9.       It is the 9th largest English speaking country in the world (English is one of its official languages and the language of government).
TURKMAN: But even our College Graduates can not speak a few sentences correctly. 
-----------
10.     It has one of the largest natural gas reserves in the world.
TURKMAN: A lie because if that was the case we would be exporting it instead of trying to buy from Iran.

---------------
11.     It has more coal than the oil equivalent of Saudi, Iran, Iraq, Kuwait and Canada combined!
TURKMAN: Because none of those countries have much Coal and most of our Coal is Non Use-able. 
-------------
12.     Pakistan has the largest ambulance network in the world run by Edhi Foundation.
TURKMAN: Because in no country of the world Ambulances are run by same one organization. 
-------------
Hopefully you will promote this message and give others a taste of what Pakistan is and what it can become (with the right leadership of course, whoever they might be!) Let nobody tell us again that Pakistan is anything other than a MIGHTY country!!!!!
TURKMAN: Pakistan, an Army Staged Democracy can never become anything as long as it is being run directly or indirectly by looting killing Mafia of Punjabi Army. Even a country of Black Africans, Jamaica with British Union Jack on their Flag has 4 times higher Per Capita Income because it are not run by people so corrupt. We had become free of British because our Ruling Mafias had wanted no check when they start looting us. 

Monday, 5 September 2011

Al Zarrar: Main Battle Tank To Reckon With

Al Zarrar: Main Battle Tank To Reckon With
Tanks were first introduced by the British during World War I as a means to break the deadlock of trench warfare. They were first deployed at the Battle of Somme in limited numbers. During construction, to conceal their true identity as weapons, they were designated as water carriers for the Mesopotamian campaign and referred to as “tanks” (as in “water tank”). Over a period of time it all changed. Pakistan assembly line of T-59 tanks needed to be replaced. Al Zarrar MBT was born;

Al Zarrar is the modern Main Battle Tank of Pakistan Army. Its in defence production at the moment at Heavy Industries Taxila. The Al-Zarrar development programme started in 1990 and the first batch of 80 upgraded tanks were delivered to the Pakistan Army on 26 February 2004.


Click the image to open in full size.

Al-Zarrar’s primary armament is a 125 mm smoothbore tank gun with an autofrettaged, chrome-plated gun barrel. It is capable of firing APFSDS, HEAT-FS and HE-FS rounds as well as anti-tank guided missiles and a Pakistani DU (depleted uranium) round, the 125 mm Naiza. Naiza is capable of penetrating 550 mm of RHA armour at a distance of 2 km. Reloaded by a semi-automatic autoloader, the gun has a dual-axis stabilisation system and thermal imaging sights for the commander and gunner. integrated into the fire-control system. The image stabilised fire-control system includes a laser range-finder for accurate range information and ballistics computer to improve accuracy. An improved gun control system is also fitted.

The secondary armament consists of an external 12.7 mm anti-aircraft machine gun mounted on the roof of the turret, which can be aimed and fired from inside the tank, and a 7.62 mm coaxial machine gun.

The Al-Zarrar is powered by a liquid-cooled 12 cylinder diesel engine, giving a power output of 730 hp and torque output of 305 kg.m at 1300-1400rpm. A combat weight of 40 tonnes gives Al-Zarrar a power to weight ratio of 18.3 hp/tonne and a top speed of 65 km/h. Crew comfort is improved over the Type 59 by a modified torsion bar suspension system.


Click the image to open in full size.

Al-Zarrar uses modular composite armour and explosive reactive armour to give improved protection from anti-tank missiles, mines and other weapons. The Pakistani ATCOP LTS-1 laser threat warning system is fitted to inform the tank crew if the tank is targeted by a laser range-finder or laser designator. Smoke grenade launchers are fitted to the sides of the turret. An automatic fire-extinguishing and explosion suppression system is installed to improve crew survivability.

On 21 October 2008, the chief of the Bangladesh Army met his Pakistani counterpart to discuss a programme to modernise the Bangladesh Army’s fleet of Type 59 tanks. The Bangladesh Army may soon become the first export customer of the Al-Zarrar as it intends to upgrade 300 of its Type 59 tanks to Al-Zarrar standard at the 902 Heavy Workshop in Banglades
h.

Click the image to open in full size.








History of 6 September 1965


heart History of 6 September 1965.....




The 1965 War was a comical affair! Civilians at the foreign ministry assessed that the Indians could be knocked out at the strategic level while soldiers at the highest military level and political level, the president being a soldier were not interested in any military adventure. The civilian hawks led by Bhutto, however, were in league with a group of generals and brigadiers within the army and finally succeeded in persuading the president
(famous for tactical timidity in Burma) into embarking on a military adventure. Musa the army chief had little strategic insight and was against any military adventure in which he may be forced to exercise his qualities of leadership! Musa had rudimentary understanding of strategy and tank warfare since he was a political choice appointed more because he was seen as politically no threat rather than for any military strategic or operational talent!
The Pakistani offensive plan i.e. a thrust against Indian line of communication at Akhnur in case of a limited war in Kashmir or/and against Indian line of communication between Indian Corps holding Ravi-Sutlej Corridor at Jandiala Guru on Amritsar-Jullundhur road in case of an all out war was brilliant in conception. This was so because if successful any of the two plans would have forced the Indians to sue for peace at best and to surrender at worst. No less an authority than the Indian Western Command C in C Harbaksh Singh thus confessed
“A Blitzkrieg deep into our territory towards the Grand Trunk Road or the Beas Bridge would have found us in the helpless position of a commander paralysed into inaction for want of readily available reserves while the enemy was inexorably pushing deep into our vitals. It is a nightmarish feeling even when considered in retrospect at this stage”.
To the Pakistan Army’s misfortune a plan which was brilliant at the strategic and operational level failed simply because those who were leading the military machine at the highest level lacked the strategic insight as well as resolution! The first opportunity was thus missed in Chamb-Jaurian Sector, when even a foreigner i.e. Chinese Foreign Minister visiting Pakistani thought that Akhnur5 was the key!
The second and most serious operational failure occurred in Khem Karan.This had more to do with poor execution at the divisional and brigade level and poor initial higher organization and composition of troops at the divisional level. The first being an operational failure and the second being an organizational failure at the higher command level.
At the operational and tactical level three events stand out in the war i.e. the Grand Slam Operation in Chamb-Jaurian, blunting of Indian offensive at Chawinda at Gadgor on 8th September when one lone tank regiment gave a severe mauling to two tank regiments out of a total available Indian force of an armoured division, and a brigade level counter attack in Lahore Sector.
Grand Slam failed because of change of command! Not because Akhtar Malik was better than Yahya but because one man either Akhtar or Yahya should have conducted the whole operation! The Indians admitted that their position was saved because of the pause of 48 hours, which occurred at Tawi after the Pakistani Chief Musa ordered change of horses in the mid stream!
Now the battle of Gadgor. Technically Gadgor was 24 Infantry Brigade Group versus 1st Indian Armoured Division. In reality the contest was 25 Cavalry versus Poona and Hodsons Horse since 24 Brigade Commander told Colonel Nisar to “do something”6 the vaguest order of 1965 War! Nisar had no idea of what was in front but by a miraculous coup d oeil deployed his tank regiment 25 Cavalry in a manner which would produce an instant nervous breakdown in an instructor who taught tank tactics at the armour school! 25 Cavalry was deployed by Nisar like a thin line of steel! Like a thin net to catch a whale! The manoeuvre if it can be called one succeeded because the Indian brigade commander was paralysed by the fog of war! Thus Commander Indian 1st Armoured Brigade saw a finger as a mountain! He saw a threat to his flanks which in reality was a half squadron of Indian 62 Cavalry which had lost its way and fired at Indian Artillery opposite Rangre! What Nisar deployed after the “Do Something” order was seen by the Indian brigade commander as a tank brigade! Thus he lost the will to use two uncommitted tank regiments to outflank the Pakistani position! Gadgor was a psychological defeat inflicted on K.K Singh by Nisar with Nisar not knowing what was in front of him and K.K Singh over estimating three times what was really in front of him. Thus in cognitive terms, at Gadgor was a tank regiment commander who did not know what was in front of him against a tank brigade commander who was overawed by what he assessed was in front of him and was reduced into a state of total inertia and indecision. The important factor in this decisive battle was the fact that tangibly K.K Singh had the third tank regiment as well as three uncommitted squadrons within his two committed tank regiments with which he could have easily outflanked Nisar and got to his rear! Nisar had tangibly no reserves with which he could have countered K.K’s outflanking manoeuvre.
The counter attack of Brigadier Qayyum Sher in Lahore Sector was a successful divisional battle ordered by Major General Sarfaraz MC and executed by Brigadier Qayyum Sher most resolutely! It produced a crisis on the Indian side and threw the Indians off balance! Both retired in the same rank sometimes after the war!

Defense Day of Pakistan September 6


--

http://4.bp.blogspot.com/-4fboT5b-27I/TkuvKf7GCII/AAAAAAAACf0/TmHDhFIf2hQ/s1600/Pakistan-Defence-Day-6th-September-003.jpg


Defense Day is celebrated on 6th September every year in Pakistan. It is celebrated on the memory of martyred people who gave sacrifices of their life for the defense of the country. Pak - India War II was fought in 1965. This was ended on 6th September and both countries stopped damaging each other by using weapons etc. on 6th September, Defense Day of Islamic Republic of Pakistan. This war affected financially both countries but none of them could really dominate. As Pakistan remained saved, Defense Day is celebrated on 6th September.
Pakistan and India, both countries fought that war for the issue of Kashmir but this issue remained unsolved. A lot of people lost their lives from both countries and a lot of weapons were used. At last on 6th September, this war was ended with the support of UN.
Pakistan celebrates this day yet just for telling native of Pakistan that how people were brave at the critical time and were proud of offering sacrifices of their lives for the defense of Pakistan. Everyone must be wise and brave like martyred people at any critical time. No one should feel any kind of hesitation for offering sacrifice of his life at the time of need.
The day of 6th September starts with special prayers for the peace and prosperity of Pakistan. President and Prime Minister and many ministers of Islamic Republic of Pakistan address on 6th September from special functions of Defence Day.
Army officers like Captain Sarwar Shaheed,Major Tufail Shaheed,Major Raja Aziz Bhatti Shaheed, Major Shabbir Sharif Shaheed, Major Muhammad Akram Shaheed,Sawar Muhammad Hussain, Lance Naik Mehfooz Shaheed, Shaheed Pilot Officer Rashid Minhas Shaheed, Captain Karnal Sher Shaheed and Havildar Lalak Jan Shaheed gave sacrifices of their life and were awarded with "Nishan-e-Hairder" on 6th September, 1965. Nishan-e-Haider is a special batch which is given to brave martyred people in Pakistan who leave remarkable examples of bravery and sacrifices for nation.
Army of Pakistan displays the latest missiles, tanks, guns, army aviation helicopters and armament being used by Engineers, Electrical and Mechanical Corps, Army Air Defense, Signals, Army Service Corps and Army Medical Corps live on various places. Everyone is allowed to watch such functions live by going to the specific places. These shows are displayed on national channels as well. National songs and special documents about 6th September, 1965 and martyred people of 6th September are displayed on TV. It is told to people how people gave sacrifices for the defence of the country and what is the responsibility of young generation now.
An environment of patriot passion is generated in the whole county on Defense Day. Everyone decides in his mind he will do such works which will be significant for the country and pray for the independence of the country.

Pakistan Defence Day (6th September)


The 6th of September is a golden chapter in Pakistan History, when Pakistan, its military and people stood united in 1965 in defense of Pakistan.
Happy Defense Day

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...